Showing posts with label انتخابِ سُخن. Show all posts
Showing posts with label انتخابِ سُخن. Show all posts

Monday, April 14, 2014

بات تو سچ ہے مگر ۔۔۔۔۔۔۔

ایک فورم میں کسی ساتھی نے بڑی اچھی بات شیئر کی ہے۔ میں 
Mr. LARRY TESLER


کا ممنوں ہوں۔ جنہوں نے
Copy And Paste
:) کا ہنر ایجاد کیا۔



افضل لقمہ
ریسٹورنٹ میں بیٹھے انگریز نے کھانے میں سے ایک لقمہ لیکر
 اپنی بیوی کے منہ میں دیا، بہت ہی رومانوی منظر تھا، دل خوش ہو گیا۔
تعلیمات تو ہمیں بھی آپ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی دی ہیں کہ جو لقمہ تم اپنی بیوی کے منہ میں دو گے تو اس کا بھی ثواب ملے گا۔ ( اعظم الصدقہ لقمہ يضعها الرجل في فم زوجتہ)۔

بیوی کے منہ میں سنت سمجھ کر لقمہ ڈالنا بھی باعث اجروثواب ہے۔

56
- حَدَّثَنَا الحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا
[ص:21]
شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ عَلَيْهَا، حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي فَمِ امْرَأَتِكَ»

الكتاب: الجامع المسند الصحيح المختصر من أمور رسول الله صلى الله عليه وسلم وسننه وأيامه = صحيح البخاري
المؤلف: محمد بن إسماعيل أبو عبدالله البخاري الجعفي

جلد1 ص 20، رقم الحدیث
۵۶


مگر ہمیں جو کچھ تعلیمات یاد ہیں وہ یہ ہیں کہ شریعت نے ایک وقت میں ہمارے لیئے چار بیویاں جائز کی ہیں
__________________

Friday, April 11, 2014

ایک کمرۂ امتحاں





ایک کمرۂ امتحاں

بےنگاہ آنکھوں سے 
دیکھتے ہیں پرچے کو
بے خیال ہاتھوں سے
اَن بُنے سے لفظوں 
پَر اُنگلیاں گھُماتے ہیں
یا سوالنامے کو 
دیکھتے ہی جاتےہیں
ہر طرف کَن اَنکھیوں سے 
بچ بچا کے تکتے ہیں
دُوسروں کے پرچوں کو 
رَہنما سمجھتے ہیں

شاید اِس طرح کوئی
راستہ ہی مِل جائے
بےنِشاں خوابوں کا
کچھ پتا ہی مِل جائے
مجُھ کو دیکھتے ہیں تو
یُوں جوابی کاپی پر
حاشیے لگاتے ہیں
دائرے بناتے ہیں
جیسے اِن کو پَرچے کے
سب جواب آتے ہیں

اِس طرح کے منظر میں
امتحان گاہوں میں
دیکھتا ہی رہتا تھا
نقَل کرنے والوں کے
نِت نئے طریقوں سے
!آپ لطُف لیتا تھا
دوستوں سے کہتا تھا
!کِس طرف سے جانے یہ

آج دِل کے آنگن میں
ایک سوال آیا ہے
سینکڑوں سوالوں سا
ایک سوال لایا ہے

وقت کی عدالت میں
زندگی کی صُورت میں
یہ جو تیرے ہاتھوں میں
ایک سوالنامہ ہے
کِس نے یہ بنایا ہے
کِس لیے بنایا ہے
کچُھ سمجھ میں آیا ہے

زِندگی کے پرچے کے
سب سوال لازِم ہیں۔۔۔
!!سب سوال مشکل ہیں

بے نِگاہ آنکھوں سے
دیکھتا ہوں پرچے کو
بے خیال ہاتھوں سے
اَن بُنے سے لفظوں پر
اُنگلیاں گُھماتا ہوں
حاشِیے لگاتا ہوں
دائرے بناتا ہوں
یا سوالنامے کو
!!دیکھتا ہی جاتا ہوں



شاعر:  امجد اسلام امجد


Saturday, September 21, 2013

ایک والد کا خط بیٹے کے استاد کے نام







"
ایک والد کا خط بیٹے کے استاد کے نام

اسکے سکول کے پہلے دن "





" ایک والد کا خط بیٹے کے استاد کے نام
اسکے سکول کے پہلے دن "


اُس کو سیکھنا ہوگا، میں جانتا ہوں تمام لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے، تمام لوگ سچے نہیں ہوتے۔ لیکن اُس کو سکھاؤ کہ ہر بدذات شخص کے ساتھ ایک اچھا آدمی ہوتا ہے۔ کہ ہر خود غرض سیاسی راہنما کے ساتھ ایک جانثار رہنما ہوتا ہے۔
اُس کو سکھاؤ کہ ہر دشمن کے ساتھ ایک دوست ہوتا ہے۔ یہ وقت لے گا میں جانتا ہوں۔ مگر اُس کو سکھاؤ اگر تم سکھا سکو کہ ایک ڈالر ذیادہ اہمیت رکھتا ہے بنسبت پانچ پونڈ کے، اُسکو سکھاؤ کہ ہارا کیسے جاتا ہے اور ساتھ ہی یہ کہ جیت کی خوشی کیسے منائی جاتی ہے، اسکو حسد سے دور رکھو اگر تم رکھ سکو، اُس کو خاموش ہنسی کا راز سکھاؤ۔

Let him learn early that bullies are easiest to lick.
اُس کو سکھاؤ اگر تم سکھا سکو کہ کتابوں میں کیا خزانے پوشیدہ ہیں۔ لیکن اس کو اتنا وقت ضرور دو کہ وہ بیرونی دنیا جیسے آسمان میں اڑنے والے پرندوں، سورج کی روشنی میں مکھیوں اور ہرے ہرے پہاڑوں پر پھولوں کے بارے میں بھی سوچے۔
اُس کو سکھاؤ کہ نقل کرنے سے فیل ہونا زیادہ اچھی بات ہے۔ اسکو سکھاؤ کہ وہ اپنی سوچ پر بھروسہ رکھے اگرچہ ہر کوئی اسے یہ کہے کہ وہ غلط ہے۔ اُسکو سکھاؤ کہ نرم مزاج لوگوں کے ساتھ نرم مزاج رہے اور سخت مزاج لوگوں کے ساتھ سخت رہے۔

میرے بیٹے کو ایسی قوت بخشو کہ وہ ہجوم کے پیچھے نہ جائے۔ چاہے وہ سب کسی جلسے ہی میں کیوں نہ شامل ہوں۔ اُسکو سکھاؤ کہ ہر شخص کو سُنیں مگر اُسکو سکھاؤ کہ تمام لوگوں کی باتوں کو سچائی کے زمرے میں چھانے اور صرف اچھی باتوں کو لے لے۔ اُسکو سکھاؤ اگر سکھا سکو کہ کیسے ہنسنا چاہئے جب وہ اُداس ہو، اُسکو سکھاؤ کہ آنسو بہانے میں کوئی شرم نہیں، اُسکو سکھاؤ کہ بدگمان پر طنز کرے اور بہت زیادہ میٹھی میٹھی باتوں سے خبردار رہے۔ اُسکو سکھاؤ کہ اپنی جسمانی اور ذہنی طاقت کسی اچھے خریدار کو فروخت کرے لیکن کبھی اپنے دل اور روح پر قیمت نہ لگائے، اُسکو سکھاؤ کہ چیخنے والے لوگوں کے سامنے اپنے کان بند کر دے اور ثابت قدم ہو کر لڑے اگر وہ سوچتا ہے کہ وہ صحیح ہے، اُس سے نرمی کا برتاؤ کرے مگر اُسے زیادہ لاڈ مت کریں کیونکہ آگ سے گزر کر ہی پیتل اچھی صورت اختیار کرتا ہے۔ اُسکو حوصلہ دو کہ وہ بے صبر نہ بنے، اُسکو صبر سکھاؤ کہ وہ بہادر بنے، اُسکو سکھاؤ کہ وہ انسانیت پر بلند بھروسہ رکھے۔

یہ ایک بہت بڑا حکم ہے مگر دیکھو کہ تم کیا کر سکتے ہو۔
میرا بیٹا بہت ہی اچھا اور چھوٹا بچہ ہے۔

والد ابراھیم لنکن


Tuesday, September 17, 2013

گفتگو کا آرٹ

 شفیق الرّحمٰن کی کتاب 
" مزید حماقتیں"
سے ایک اقتباس


گفتگوکاآرٹ

جو کچھ کہنے کا ارادہ ہو ضرور کہیے،  دورانِ گفتگو خاموش رہنے کی صرف ایک وجہ ہونی چاہیئے ، وہ یہ کہ آپ کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے۔ ورنہ جتنی دیر جی چاہے باتیں کیجئے۔ اگر کسی اور نے بولنا شروع  کر دیا تو موقعہ ہاتھ سے نکل جائے گا اور کوئی دوسرا آپ کو بور کرنے لگے گا۔
چنانچہ جب بولتے بولتے سانس لینے کے لیے رُکیں تو ہاتھ کے اشارے سے واضح کر دیں کہ ابھی بات ختم نہیں ہوئی ۔  یا قطع کلامی معاف کہہ کر پھر سے شروع کر دیجئے ۔ اگر کوئی دوسرا اپنی طویل گفتگو ختم نہیں کر رہا، تو بیشک جمائیاں لیجئے۔   کھانسیئے۔  بار بار گھڑی دیکھئے   ۔۔۔۔۔۔۔  " ابھی آیا "   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔  کہہ کر باہر چلے جائیے،   یا وہیں سو جایئے۔
یہ بالکل غلط ہے کہ آپ لگاتار بول کر بحث نہیں جیت سکتے۔ اگر آپ ہار گئے تو مخالف کو آپ کی ذہانت پرشبہ ہو جائے گا۔  مجلسی تکلفات بہتر ہیں یا اپنی ذہانت پر شبہ کروانا؟
البتہ لڑیئے مت کیونکہ اس سے بحث میں خلل آ سکتاہے۔
کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو اُسے کبھی مت مانیے۔  لوگ ٹوکیں تو اُلٹے سیدھے  دلائل بلند آواز میں پیش کر کے اُنہیں خاموش کرا دیجئے ورنہ وہ خواہ مخواہ سر پر چڑھ  جائیں گے۔   دورانِ گفتگو میں لفظ " آپ " کا استعمال دو یا تین مرتبہ سے زیادہ نہیں ہونا چاہیئے۔  اصل چیز  " میں"   ہے۔ اگر آپ نے اپنے متعلق نہ کہا تو دوسرے اپنے متعلق کہنے لگیں گے۔
تعریفی جملوں کے استعمال سے پرہیز کیجئے۔ کبھی کسی کی تعریف مت کیجئے۔ ورنہ سُننے والے کو شبہ ہو جائے گا کہ آپ اُسے کسی کام کے لیے کہنا چاہتے ہیں۔   اگر کسی شخص سے کچھ پُوچھنا مطلوب ہو جسے وہ چُھپا رہا ہو تو بار بار اُس کی بات کاٹ کر اُسے چڑا دیجئے۔  وکیل اسی طرح مقدمے جیتتے ہیں۔ 






Friday, September 6, 2013

رام دین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ از ممتاز مفتی



رام دین۔   از ممتاز مفتی



آج کل ہم پر ایک جنون سوار ہے، کہتے ہیں نوجوانوں کو پاکستان کی آئیڈ یالوجی سمجھاؤ۔ بڑی
بڑی عالمانہ کتابیں لکھی جا رہی ہیں کہ پاکستان کیوں معرض وجود میں آیا۔ پاکستان کا مسلک کیا ہے؟
تاریخی پہلو، اقتصادی پہلو، سیاسی پہلو، ہر پہلو پر روشنی ڈالی جا رہی ہے۔
میری دانست میں یہ سب باتیں بیکار ہیں۔ میرا دعویٰ ہے کہ پاکستان کو صرف وہ شخص سمجھ
 سکتا ہے۔ جس نے رام دین کو دیکھا ہے، سمجھا ہے، جانا ہے۔
میں نے رام دین کو
۱۹۳۴ء میں دھرم سالا کے نواحی دیہات میں دیکھا تھا۔ ان دنوں میں
دھرم سالا میں انگلش ٹیچر تھا۔
۱۹۱۸ء میں پہلی جنگ عظیم کا سانپ نکلا تھا۔ سال بعد برصغیر پر اس کی لکیریں ابھریں۔ مالی
انحطاط کا جن بوتل سے نکلا اور دھواں بن کر برصغیر پاک و ہند پر چھا گیا۔ دفتروں میں تخفیف، گریڈوں میں تخفیف، تخفیف ہی تخفیف۔
 بدقسمتی سے میں تحصیل علم سے فارغ ہو کر اس وقت سنٹرل ٹریننگ کالج سے باہر نکلا۔ جب ملازمت حاصل کرنے کے جملہ راستے مسدود ہو چکے تھے۔ بڑی دوڑ دھوپ کی، سفارشیں کروائیں، پھر کہیں تعلیم کے انسپکٹر صاحب نے وعدہ کیا کہ جب کوئی ماسٹر چھٹی پر جائے گا تو عوضی پر لگا دوں گا۔ وہ بھی نچلے گریڈ میں۔
پہلی عوضی مجھے خانیوال میں ملی، دوسری دھرم سالا میں۔ میں جو بٹالے کا رہنے والا تھا اور لاہور میں تعلیم حاصل کرتا رہا۔ مجھے علم نہ تھا کہ پنجاب میں ایسے علاقے بھی ہیں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے اقلیت کے مفہوم کا شعور ہی نہ تھا۔ کیسے ہوتا؟ بٹالے میں ہندو اقلیت میں تھے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ مسلمان ہندوؤں کے ساتھ گھل مل کر رہتے
تھے، شادی اور فوتگی پر مل جل کر بیٹھتے۔ شادی مین آپس میں بھاجیاں بانٹی جاتی تھیں۔
دھرم سالہ میں مسلمان اقلیت میں تھے۔ اس اقلیت کا یہ عالم تھا کہ سارے سکول میں صرف دو مسلمان طالب علم تھے اور میں واحد مسلمان ٹیچر تھا۔
میری مشکل یہ ہے کہ میں پانی بہت پیتا ہوں اور بار بار پیتا ہوں۔
رام دین سے میری ملاقات صرف پانی پینے کی وجہ سے ہوئی۔ اگر میں بار بار پانی پینے کا عادی نہ ہوتا تو شاید رام دین کے وجود سے کبھی واقف نہ ہوتا۔
ایک روز سکول میں، میں نے ایک ہندو لڑکے سے کہا: مجھے ایک گلاس پانی لا دو۔ لڑکا میری
بات سن کر ادب سے سر جھکائے کھڑا رہا۔ میں نے دوبارہ کہا تو بڑے ادب سے بولا " ماسٹر جی،
میں آپ کو پانی نہیں پلا سکتا۔"
" کیوں" ؟  میں نے حیرت سے پوچھا۔
" جناب میرا دھرم بھرشٹ ہو جائے گا"
 میں ہنس پڑا۔ بولا برخوردار!  دھرم بھرشٹ تو تب ہوتا ہے جب تم میرے ہاتھ کا پانی پیئو۔
مجھے پانی پلانے سے تو دھرم بھرشٹ نہیں ہوتا"۔
میری دلیل کا اس پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ ادب سے سر جھکائے جوں کا توں کھڑا رہا۔
ان دنوں مجھے یہ شعور نہ تھا کہ دھرم بھرشٹ ایک جزبہ ہے جسے نہ عقل سے تعلق ہے نہ
 دلیل سے۔ اور ہندو اقلیت کے علاقے میں اس کا مفہوم اور ہے اور ہندو اکثریت کے علاقے میں اور۔
مجھے پتہ تھا کہ ہندو مسلمان کے ہاتھ کا پانی نہیں پیتے۔ لیکن پانی پلانے کو تو پن سمجھتے تھے۔
یہ اور بات تھی کہ وہ مسلمان سے اپنا برتن دور رکھتے تھے۔ اس دوری کا قائم رکھنے کے لئے انہوں
نے کئی ایک طریقے ایجاد کر رکھے تھے۔ مثلاً ایک طریقہ یہ تھا کہ بانس کا ایک ٹکڑا لیتے، اسے کاٹ
کرایک نالی بنا لیتے۔ اس نالی کے ایک سرے پر وہ اپنی گڑوی سے پانی ڈالتے، دوسرے سرے پر مسلمان
اوک سے پانی پیتا۔
ریلوے سٹیشنوں پر گاڑی رکتی تو آوازیں سنائی دیتیں۔ " ہندو پانی" " مسلمان پانی" ہندو
مسافر تو " ہندو پانی" کا انتظار کرتے تھے۔ مسلمان دونوں پانیوں میں فرق نہ جانتے۔ بے تکلف ہندو پانی
پیتے اور پانی پلانے والا جو حقارت بھرا فاصلہ قائم رکھتا اسے مطلق برا نہ مانتے۔
دھرم سالا میں دھرم بھرشٹ کا یہ نیا مفہوم جان کر میں حیران ہوا۔ یہ بات میری سمجھ میں
نہ ّئی کہ دھرم بھرشٹ کا یہ مفہوم نیا نہیں بلکہ ان علاقوں کا مروجہ مفہوم ہے جہاں ہندو اکثریت
میں ہیں۔
اس واقعے سے جند روز بعد مجھے ہندو اکثریت کے علاقے کی وہ تخلیق نظر آئی جس کا نام
رام دین ہے۔
چھٹی کا دن تھا۔ دھرم سالا کے مناظر تھے۔ میں نے کہا چلو، گھوم پھیر کر دن گزاریں۔
پہاڑوں کی پگڈنڈیوں پر گھومتا پھرتا آٹھ دس میل دور نکل گیا۔
راستے میں پیاس لگی۔ چشمے تو وہاں جگہ جگہ رس رہے تھے۔ لیکن پینے سے ڈرتا تھا۔ اس لئے
کہ سرکار نے جگہ جگہ بورڈ لگا رکھے تھے:
" ہر خاص و عام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ کسی چشمے کا پانی نہ پیئں جب تک وہاں سرکاری بورڈ نہ لگا ہوکہ
" پانی پینے کے قابل ہے"
اس احتیاط کی وجہ یہ تھی کہ علاقے کے پانی میں کوئی ایسی دھات پائی جاتی تھی جو گلے میں
بیٹھ جاتی اور گردن پر گلہڑ نکل آتا۔
بہرحال پانی کی تلاش میں ایک چھوٹے سے گاؤں میں جا پہنچا۔ ایک دکان دار لالہ جی سے
پوچھا" جی یہاں سے پینے کا پانی مل جائے گا؟"
لالہ جی نے غور سے مجھے سر سے پاؤں تک دیکھا، اور بولا، " مسلمان"؟
میں انے اثبات میں سر ہلا دیا، "جی"
لالہ بولا " وہ سامنے گھر مسلمان کا ہے ۔ وہاں سے پی لو"
سامنے گھر کے اندر جھانکا تو کیا دیکھتا ہوں کہ تازہ گوبر کی لپائی ہو رہی ہے، باورچی خانے میں
چوکا بنا ہوا ہے۔ بالکل جیسے رسوئی میں ہوتا ہے۔ کٹوریاں اور تھالیاں پڑی ہیں، بالکل ایسی جیسے ہندو
گھروں میں ہوتی ہیں۔
میں نے سوچا! یہ تو مسلمان کا گھر نہیں ہو سکتا۔ لالہ جی نے شاید کسی اور گھر کی طرف اشارہ
کیا ہو۔ اتنے میں اندر سے ایک شخص باہر نکلا۔ نیچے لڑوالی دھوتی، اوپر ننگا بدن، گلے میں جنئیو، سر پر
اتنی لمبی گھنی بودی!
میں نے کہا " مہاراج، یہاں مسلمان کا کوئی گھر ہے"؟
بولا " ہاں مہاراج، یہی تو ہے۔ یہ میرا گھر ہے۔"
حیرت سے میرا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔
اللہ !  یہ کیا تماشہ ہے! یہ گوبر کا چوکا، یہ جنئیو، یہ بودی اور مسلمان! " تم مسلمان ہو"؟ میں نے
اس سے پوچھا۔
" جی " وہ بولا۔
" کیا نام ہے تمہارا"؟
" جی رام دین "
نہ جانے میں کتنی دیر پھٹی پھٹی آنکھوں سے رام دین کو دیکھتا رہا۔
پھر اس علاقے میں گھومتے گھومتے بیسیوں رام دین دیکھے اور مجھے احساس ہوا کہ رام دین فرد
واحد نہیں بلکہ ایک قوم ہے۔ ہندو اکثریت کے علاقے کی تخلیق کردہ قوم۔
اگر پاکستان نہ بنتا تو یہ بات خارج از امکان نہیں کہ آج میں بھی ایک رام دین ہوتا۔ صرف میں
ہی نہیں شاید آپ اور ہم سب رام دین ہوتے۔ ہمارے سروں پر چوٹیاں نہ ہوتی، گلے میں جنئیو نہ
ہوتے، گھروں میں گوبر کی لپائی نہ ہوتی، اس کے باوجود ہم رام دین ہوتے۔ رام دین ایک ذہنیت کا نام
ہے جو خود اختیار نہیں کی جاتی بلکہ جسے اکثریت ایک منصوبے کے تحت پیدا کرتی اور ذہن سے آہستہ
 آہستہ لباس ، گفتگو اور جسم تک پہنچتی ہے۔
لیکن ٹھہریئے۔ رام دین پر ہنسیئے نہیں۔ اگر رام دین نہ ہوتا تو پاکستان کبھی وجود میں نہ آتا سچی
بات یہ ہے کہ رام دین کا اولین بانی ہے۔
عرب ملک عرب اور غیر عرب کے چکر میں پڑے ہیں۔ پاکستان واحد ملک ہے جسے رام دین سے
گہرا تعلق ہے۔ کیونکہ یہ اسی لئے وجود میں آیا کہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ رام دین بن کر جئیں۔
بھارتی مسلمان رام دین سے واقف نہیں بلکہ وہ رام دین بیت رہے ہیں۔
دقّت یہ ہے کہ جنہوں نے پاکستان بنانے کے لئے جدو جہد کی تھی، وہ تو لد گئے۔ پرانے پتے
سوکھ کر جھڑ گئے، ان کی جگہ نئی کونپلیں پھوٹی ہیں، جنہیں رام دین کا شعور نہیں۔ کیسے شعور ہو؟
پاکستان میں لاکھوں ہندو مقیم ہیں ان میں کوئی بھی تو " اسلام چندر " نہیں۔ پھر وہ رام دین کو کیسے سمجھیں۔؟؟؟؟؟
ٌٌ
******************

Monday, July 29, 2013

Get Well Soon!






روایات میں ہے کہ،
، کائنات میں کوئی اتنی شدت سے کسی کا انتظار نہیں کرتا 
 " جتنا کہ اللہ اپنے بندے کی توبہ کا کرتا ہے۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


حضرت موسیٌٰ کلیم اللہ ۔۔۔۔ اللہ کے نہایت چہیتے رسول تھے۔ ایک دفعہ ان کے دل میں خیال آیا 
کہ روئے زمین پر سب سے زیادہ گنہگار بندہ کون ہوگا۔ یہ سوچ کر وہ کوہ طور پر پہنچے اور اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے اور عرض کیا۔
" اے اللہ! روئے زمین پر سب سے زیادہ گنہگار بندہ کون ہے"
 "اللہ تعالیٰ نے فرمایا " فلاں ابنِ فلاں 
"آپٌ نے پھر عرض کیا۔ "اے اللہ! وہ شخص کہاں ملے گا میں اُسے دیکھنا چاہتا ہوں۔ 
اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ کل فلاں جنگل کو جانے والے راستے پر اس کا انتظار کرنا۔ جو آدمی سب سے پہلے اُس راستے سے ہو کر جنگل میں جائے گا وہی شخص ہو گا۔
اگلے دن حضرت موسیٰ علیہ السلام صبح سویرے اُسی مقام پر پہنچے اور ایک درخت کی اوٹ میں ہو  کر اس کا انتظار کرنے لگے۔ تھوڑی دیر بعد ایک آدمی آتا ہوا دیکھائی دیا جب وہ نزدیک پہنچا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دیکھا کہ وہ ایک پختہ عمر کا آدمی ہے اُس نے اپنی گود میں ایک چھوٹے بچے کو اُٹھایا ہوا ہے جس سے باتیں کرتا ہوا وہ جنگل میں داخل ہوا اور گھنے درختوں میں آگے بڑھتا چلا گیا حتی کہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی باہر نکل آئے اور دوبارہ کوہ طور کی جانب چل دئیے۔ راستے میں انھیں یہ خیال آیا کہ سب سے زیادہ گنہگار بندے کو تو میں نے دیکھ لیا اب کیوں نہ سب سے کم گنہگار بندے کے بارے میں بھی جا کر پتا کر لیا جائے۔
  وہ کوہ طور پر پہنچے اور اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہو کر عرض کیا کہ،"  اے اللہ! میں نے سب سے زیادہ گنہگار بندے کو دیکھ لیا ہے اب میں سب سے کم گنہگار بندے کو دیکھنا چاہتا ہوں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ جس جگہ تم نے گنہگار بندے کو دیکھا تھا وہیں جا کر انتظار کرنا۔ وہ بندہ غروبِ آفتاب کے وقت جنگل کی طرف سے آئے گا۔ 
موسیٰ علیہ السلام  سورج غروب ہونے سے پہلے وہاں پہنچ گئے اور انتظار کرنے لگے۔ غروب آفتاب کے وقت کیا دیکھتے ہیں کہ وہی صبح والا بندہ اُسی چھوٹے بچے کو اٹھائے واپس آ رہا ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام بڑے حیران ہوئے کہ یہ کیسے ممکن ہو سکا کہ ایک بندہ جو صبح روئے زمیں پر سب سے زیادہ گنہگار تھا اب روئے زمیں پر سب سے نیک بندہ کیسے ہو گیا۔
یہی بات دل میں لیے وہ کوہ طور کی جانب روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر عرض کیا،" اے اللہ! یہ کیسے ممکن ہوا کہ سب سے زیادہ گنہگار بندہ یکدم نیک بندہ بن گیا
اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اس بندے نے جو بچہ اٹھایا ہوا تھا وہ اُس کا پوتا ہے۔ صبح کو جب یہ لوگ گھر سے باہر آئے تو گھر کے باہر میدان کو دیکھ کر بچے نے اپنے دادا سے کہا کہ دادا یہ میدان کتنا بڑا ہے ہمارے گھر سے بھی بڑا!
اس شخص نے بچے سے کہا کہ اس میدان سے بڑا وہ جنگل ہے جس میں ہم جا رہے ہیں۔
بچے نے پوچھا کہ اس جنگل سے بڑا بھی کچھ ہے؟
اُس شخص نے جواب دیا۔ ہاں، جنگل سے بڑا پہاڑ ہے۔
بچے نے پھر پوچھا کہ پہاڑ سے بڑی بھی کوئی چیز ہے؟
اُس شخص نے جواب دیا کہ ہاں، پہاڑ سے بڑی چیز سمندر ہوتی ہے۔ پہاڑ اُس میں ڈوب جاتا ہے۔
بچے نے پھر پوچھا کہ سمندر سے بڑی کوئی چیز ہے؟
اُس نے جواب دیا کہ ہاں، سمندر سے بڑی زمین ہے۔ 
بچے نے پھر پوچھا کہ زمیں سے بھی کوئی چیز بڑی ہے؟
اس نے جواب دیا۔ کہ ہاں، زمین سے بڑا سورج ہے۔
؟.......بچے نے پھر پوچھا کہ سورج سے بڑی چیز
اُس نے کہا کہ ستارے سورج سے بڑے ہوتے ہیں۔
؟.........بچے نے پھر پوچھا کہ ستارے سے بڑی کوئی چیز
اُس نے کہا،   کائنات۔
بچے نے پھر پوچھا کائنات سے بڑی کیا چیز ہے؟
تو اس نےجواب دیا کہ میرے گناہ۔
بچے نے پوچھا کہ آپ کے گناہ سے بھی بڑی کوئی چیز ہے؟
جواب دیا ہاں، ایک چیز ایسی ہے کہ جو میرے گناہوں سے بھی بڑی ہے۔ اور وہ ہے اللہ کا کرم اور رحمت! اور اِس سے بڑی کوئی چیز نہیں ہے۔
اس پر اللہ نے فرمایا کہ جب اُس بندے نے یہ کہا تو میری  رحمت نے جوش مارا اور میں نے اُس بندے کے سارے گناہ معاف کر دیئے۔
اُس کے بعد ابھی تک اُس بندے نے کوئی گناہ نہیں کیا۔ اِ س لیے روئے زمین پر اس وقت وہ بندہ سب سے زیادہ نیک بندہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔





Thursday, July 18, 2013

قرآن کی ضرورت و اہمیت




 قرآن کی ضرورت و اہمیت


کیا آپ نے کبھی سوچا ہے ہے کہ رات کی تاریکی میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر بھی دیکھیں تو کچھ نہیں دیکھ سکتے جب کہ ان ہی آنکھوں سے آپ دن کے وقت آسانی سے دیکھ سکتے ہیں۔
اگر آپ رات کے وقت بیٹھ کر پڑھ رہے ہوں اور اچانک بجلی چلی جائے یا آپ کا لیمپ بجھ جائے تو آپ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہیں گی لیکن آپ کو کچھ سجھائی نہیں دے گا اور جب بجلی آ جائے گی یا آپ لیمپ دوبارہ جلا لیں گے تو ہر چیز روشن ہو جائے گی۔
آپ یہ جانتے ہیں کہ دیکھنے کے لیے صرف آنکھوں کی بینائی ہی کافی نہیں بلکہ کسی خارجی روشنی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ وہ روشنی خواہ سورج کی ہو یا لیمپ کی۔ گویا کسی بھی مادی چیز کو دیکھنے کے لئے ہمیں ایک داخلی روشنی چاہئیے جو ہماری نگاہ ہے اور ایک خارجی روشنی کی ضرورت ہے۔
اسی طرح جب ہم ان چیزوں میں امتیاز کرنا چاہتے ہیں جن کو ہماری ظاہری آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں مثلاً کون سا کام نیکی ہے اور کون سا بُرائی؟   ایمان کیا ہے اور کفر کیا ہے؟   ان چیزوں کو جانچنے کے لئے ہمارے پاس ایک داخلی روشنی ہے اور وہ ہے عقل، لیکن ابھی ہم نے پڑھا ہے کہ داخلی روشنی اس چیزوں میں امتیاز کر سکتی ہے جب کہ کوئی خارجی روشنی بھی موجود ہو۔ پس ہم غیرمادی چیزوں کی حقیقت جاننے کے لئے ایک خارجی روشنی کے محتاج ہیں اور وہی روشنی قرآن ہے۔
قَد جآءَ کُم مِن اللّهِ نورٌ و کتابٌ مبينٌ
" تمہارے پاس اللّہ کی طرف سے روشنی اور کھلی کتاب آئی ہے۔"

اگر اندھیرے میں کوئی کتاب ہمارے ہاتھ میں آجائے تو ہم یہ تو محسوس کر لیتے ہیں کہ یہ کتاب ہے لیکن روشنی کے بغیر یہ نہیں جان سکیں گے کہ یہ کون سی کتاب ہے، کس موضوع پر ہے، اس میں کس کس صفحے پر کیا کیا لکھا ہے؟  اس طرح صرف عقل کی روشنی سے ہم بعض حقیقتوں کو کسی حد تک جان سکتے ہیں لیکن مکمل روہنمائی اور ہدایت کے لئے قرآن کی روشنی ضروری ہے۔ اس لیے اللّہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِی أُنْزِلَ مَعَهُ
 "اس روشنی کا اتباع کرو جو رسول اللّہ کے ساتھ اُتاری گئی ۔"

جب تک ہمارے جسم اور روح کا تعلق باقی ہے ہم انسان ہیں اور جب یہ تعلق ختم ہو جائے تو انسانی لاش ہیں۔ گویا انسان دو چیزوں سے مل کر بنتا ہے: جسم اور روح۔
ہمارا جسم مٹی سے بنا ہے اس لیے ہمارے جسم کی تمام ضرورتیں مٹی سے ( زمین سے ) حاصل ہوتی ہیں۔ ہمیں غذا کی ضرورت ہے۔ بیمار ہوں تو دوا چاہیئے۔ ہمیں لباس اور مکان ہی نہیں آرائش و زیبائش کا سامان بھی چاہیئے۔ ہمیں اپنے دفاع کے لئے اسلحے کی بھی ضرورت ہے۔
آپ اپنی بے حساب جسمانی ضرورتوں کا تصّور کریں اور پھر غور کریں کہ ان میں سے ہر چیز بالواسطہ یا براہ راست زمیں سے حاصل ہوتی ہے۔
لیکن انسان صرف جسم کا نام تو نہیں، اس میں ایک روح بھی ہے، اگر ہمیں پیاس محسوس ہو تو ہماری پیاس بجھانے کے لئے روئے زمین پر بےشمار چشمے ابل رہے ہیں۔ لیکن ہماری روح کو پیاس لگے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟  ہمارے بدن اور کپڑوں کا میل کچیل صاف کرنے کے لیے قسم قسم کے صابن موجود ہیں لیکن اگر ہماری روح میلی ہو جائے تو اسے صاف کرنے کے لیے کیا کریں؟ ہمیں پاؤں میں کانٹا چبھ جائے تو انہیں نکالنے کے لیے اَن گنت سوئیاں دستِ یاب ہیں۔لیکن اگر ہماری روح میں شک اور بے یقینی کے کانٹے چبھ جائیں تو انہیں نکالنے کے لیے سوئی کہاں سے لائیں؟  اگر ہمارا جسم بیمار پڑ جائے تو علاج کے لیے ڈھیروں دوائیاں موجود ہیں اور اگر ہم بیمار پڑ جائیں تو اس کا علاج کیسے کریں؟
جب اللّہ نے ہماری معمولی سے معمولی جسمانی ضرورت کا اس قدر خیال رکھا ہے کہ زمین کے خزانوں میں کسی چیز کی کمی نہیں تو کیا اس نے ہماری روحانی ضرورتوں کا خیال نہیں رکھا ہوگا، یقیناً رکھا ہے اور اس کی حکمت دیکھئے کہ،
جسم مٹی سے بنا ہے اس لیے اس کی تمام ضرورتیں مٹی سے پوری کرنے کے لئے زمین بچھا دی، اور روح عالم بالا کی چیز ہے اس لیے اس کی تمام ضرورتیں پوری کرنے کے لیے عالم بالا سے قرآن اتارا اور ارشاد فرمایا:

وننزّل من القرآن ما هو شفاء ورحمة للمؤمنين
"اور ہم قرآن اتارتے ہیں جو سراپا شفا ہے اور ایمان والوں کے لیے باعث رحمت۔"

جس طرح اللّہ کے بہت سے نام ہیں مثلاً الرحمن، الرحیم، الصمد، الملک، القدوس وغیرہ اسی طرح قرآن کے بھی بہت سے نام ہیں مثلاً
الکتاب۔    خاص کتاب یعنی اللّہ کی کتاب
الفرقان۔     حق اور باطل میں فرق کرنے والی
الذکر۔      نصیحت
النّور۔       روشنی
الشفاء۔     پیام صحت
وغیرہ،  لیکن سب سے زیادہ مشہور قرآن ہی ہے۔
ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کا کوئی مسئلہ ایسا نہیں ہے جس کے متعلق اصولی طور پر قرآن حکیم میں راہنمائی موجود نہ ہو۔